قناعت پسندی

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - سیر چشمی، نیت سیر ہونا، قناعت کی عادت، تھوڑی چیز کو بہت جاننا۔ "ریاضت اور نفس کشی، شکر نعمت، قناعت پسندی اور توکل دوستی۔"      ( ١٩٨٥ء، کشاف تنقیدی اصطلاحات )

اشتقاق

عربی زبان سے مشتق اسم "قناعت" کے ساتھ فارسی اسم 'پسندی' لگانے سے مرکب 'قناعت پسندی' بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٩٨٥ء کو "کشاف تنقیدی اصطلاحات" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - سیر چشمی، نیت سیر ہونا، قناعت کی عادت، تھوڑی چیز کو بہت جاننا۔ "ریاضت اور نفس کشی، شکر نعمت، قناعت پسندی اور توکل دوستی۔"      ( ١٩٨٥ء، کشاف تنقیدی اصطلاحات )

جنس: مؤنث